سپیکرز
یادرفتگان کا پیش کردہ کلام
تو جو رہ رہ کے محبت کا خدا بنتا ہے
تو جو رہ رہ کے محبت کا خدا بنتا ہے دیکھنا یہ ہے کہ اے دل ترا کیا بنتا ہے کاش وہ شخص بڑا ہو کے دِکھائے بھی کبھی سامنے سب کے جو ہر وقت بڑا بنتا ہے چھنتے چھنتے ہی نکلتے ہیں خد و خال نئے بنتے بنتے ہی کوئی نقش سِوا بنتا ہے لطف جب ہے کہ تجھے باپ کی شفقت ہو نصیب ماں کے ہونٹوں پہ تو ہر لفظ دعا بنتا ہے جن کے دیوار و در و بام ہوں آسیب زدہ ان مکانوں سے مکینوں کا گِلہ بنتا ہے ٹوٹتے رہتے ہیں اشکوں کے ستارے مجھ میں میرے سینے میں ترا ہجر خلا بنتا ہے کس کا اُسلوبِ سخن ہے ترے جیسا آزر فخر کرتا ہے جو تو خود پہ ترا بنتا ہے
سورج زمیں کی اُور دھکیلا نہیں گیا
سورج زمیں کی اُور دھکیلا نہیں گیا مُشکل تھا کھیل کھیلنا، کھیلا نہیں گیا ڈر تھا کہ موت راہ میں بیٹھی نہ ہو کہیں میں زندگی کی سمت اکیلا نہیں گیا آنکھوں کی پُتلیوں میں سمٹتے رہے نقوش دل کے خلا میں خواب اُنڈیلا نہیں گیا تو خاک عشق کر کے دکھائے گا اے دلا تجھ سے تو ایک ہجر بھی جھیلا نہیں گیا وہ موت کا کنواں، وہ تحیر کی سمفنی یادوں سے بچپنے کا وہ میلہ نہیں گیا اب تک ٹھنی ہوئی ہے مری کائنات سے اب تک رُکا ہوا ہے جھمیلا، نہیں گیا تخئیل کے حصول پہ عالم کی سیر کی آزر ہماری جیب سے دھیلا نہیں گیا
اے عمر رواں زرا ٹھہر تو سہی
اے عمر رواں زرا ٹھہر تو سہی کچھ خواب ابھی ادھورے ہیں کچھ باتیں ابھی ادھوری ہیں کچھ قرض ابھی چکانے ہیں اے عمر رواں انہیں ڈھونڈ کے لا وہ لوگ جو ہم سے بچھڑ گئے وہ سنگی ،ساتھی،بیلی ہمدم زرا دیکھ کر آ کدھر گئے جو ہمدم تھے جو پریتم تھے دل کو جن کے روگ لگے جن کے بنا جیون سوگ لگے اے عمر رواں زرا رک تو سہی ٹھہر ذرا دھیرے چل زرا من کی پیاس بجھانے دے کچھ خواب پورے ہو جانے دے کچھ پیار کے گیت سنانے دے بچھڑے ساجن کو آ جانے دے اے عمر رواں زرا ٹھر تو سہی